اعتماد جیت کر لاکھوں کی آن لائن ٹھگی، عادل آباد میں ایک ہفتے کے دوران سائبر فراڈ کے 9 مقدمات درج

اعتماد جیت کر لاکھوں کی آن لائن ٹھگی، عادل آباد میں ایک ہفتے کے دوران سائبر فراڈ کے 9 مقدمات درج

عادل آباد۔6/جولائی(تلنگانہ وائس) ضلع میں سائبر جرائم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اکھل مہاجن نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سائبر فراڈ کے 9 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائبر مجرم نت نئے طریقوں سے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں، اس لیے سوشل میڈیا پر آنے والے اشتہارات، مشکوک لنکس اور اے پی کے (APK) فائلوں سے محتاط رہنا ضروری ہے۔

ایس پی نے عوام کو مشورہ دیا کہ بینک افسر، کریڈٹ کارڈ محکمہ یا قرض منظور ہونے کے نام پر فون کرنے والوں کو کبھی بھی او ٹی پی، آدھار نمبر، بینک کی معلومات یا دیگر ذاتی تفصیلات فراہم نہ کریں۔ اگر کوئی شخص سائبر فراڈ کا شکار ہو جائے تو فوری طور پر 1930 ہیلپ لائن پر اطلاع دے کر شکایت درج کرائے۔

پولیس کے مطابق موالا پولیس اسٹیشن حدود میں ایک شخص کو او ایل ایکس پر کم قیمت میں کتابیں فروخت کرنے کا جھانسہ دے کر 94 ہزار روپے ہتھیا لیے گئے۔ رقم وصول کرنے کے بعد ملزم نے رابطہ منقطع کر دیا، جس پر متاثرہ شخص نے پولیس سے رجوع کیا۔

ایک اور واقعہ میں ایک خاتون نے متاثرہ شخص کے نام سے سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹ بنا کر اس میں نازیبا تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کیں۔ بعد میں انہیں حذف کرنے کے عوض رقم کا مطالبہ کیا گیا، جس پر متاثرہ شخص نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔

بوتھ علاقے کے ایک شخص کو ایس بی آئی کے افسران بن کر سائبر ٹھگوں نے فون کیا اور غیر قانونی کریڈٹ کارڈ کے نام پر رقم وصول کرنے کی کوشش کی۔ مسلسل مختلف نمبروں سے کالیں کر کے دباؤ ڈالا گیا، تاہم متاثرہ شخص نے پولیس سے رجوع کر لیا۔

اسی طرح ایک اور متاثرہ شخص کو مدرا لون منظور ہونے کا جھانسہ دے کر پہلے 5,500 روپے پروسیسنگ فیس کے نام پر وصول کیے گئے، بعد ازاں مزید 17 ہزار روپے طلب کیے گئے۔ شک ہونے پر متاثرہ شخص نے مزید رقم ادا کرنے کے بجائے پولیس میں شکایت درج کرا دی۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک لنک، کیو آر کوڈ یا آن لائن مالی لین دین سے پہلے مکمل تصدیق کریں تاکہ سائبر جرائم سے محفوظ رہا جا سکے۔