*بستی بستی مراکزِ نسواں کا قیام — وقت کی اہم ترین ضرورت*
*منبر و محراب فاؤنڈیشن انڈیا کے زیرِ اہتمام خواتین کے لیے جزوقتی دینی درسگاہیں معاشرے کی اصلاح کا مؤثر ذریعہ*
*بستی بستی، محلہ محلہ مراکزِ نسواں قائم کرنے کی اپیل*
عادل آباد۔15/جولائی(تلنگانہ وائس)
مولانا سید رضوان اسعدی صدر منبر و محراب فاؤنڈیشن تلنگانہ نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ موجودہ دور میں مسلم معاشرہ جس اخلاقی، معاشرتی اور دینی زوال سے گزر رہا ہے، وہ ہر صاحبِ درد کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ شہروں سے لے کر دیہات تک دینی شعور میں مسلسل کمی، عبادات سے غفلت، سنتوں سے بے رغبتی اور اسلامی تعلیمات سے دوری روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین میں بھی دینی تعلیم سے محرومی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، حالانکہ ایک صالح معاشرے کی بنیاد صالح خواتین اور صالح ماؤں پر قائم ہوتی ہے۔
اشتہار۔۔۔۔۔Advertising

افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سی خواتین بنیادی دینی مسائل، قرآنِ کریم کی صحیح تلاوت، اسلامی عقائد اور مسنون اعمال سے ناواقف ہیں۔ شادی بیاہ، خوشی و غمی اور دیگر مواقع پر غیر شرعی رسم و رواج عام ہوچکے ہیں۔ سودی معاملات، مختلف مالیاتی گروپس اور بینکوں سے غیر شرعی وابستگیاں، غیر مسلم تہواروں میں شرکت، اور تعلیمی اداروں میں بے پردگی و بے حیائی جیسے رجحانات مسلم معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اگر زمینی سطح پر حالات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ملتِ اسلامیہ دینی اعتبار سے کس قدر نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔
Advertising

سوال یہ ہے کہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال کا مستقل اور مؤثر حل کیا ہے؟
اس کا جواب صرف ایک ہے: تعلیمِ دین، صحیح تربیت اور مسلسل اصلاح۔
الحمدللہ! چند سال قبل ملت کے مخلص رہنما حضرت مولانا غیاث احمد صاحب رشادی مدظلہ، بانیِ منبر و محراب فاؤنڈیشن انڈیا، نے خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے "مراکزِ نسواں” کے عنوان سے جزوقتی دینی درسگاہوں کا ایک انقلابی نظام شروع فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج یہ نظام تلنگانہ، آندھرا پردیش، مہاراشٹرا، تمل ناڈو، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، کرناٹک، گجرات، آسام اور دیگر ریاستوں تک پہنچ چکا ہے۔
Advertising

الحمدللہ! ملک کی تقریباً دس ریاستوں میں 400 سے زائد مراکزِ نسواں کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں، جہاں 20 ہزار سے زائد خواتین قرآن، دینی تعلیم، اسلامی تہذیب اور عملی تربیت سے مستفید ہو رہی ہیں۔ ان مراکز نے ہزاروں گھروں میں دینی بیداری پیدا کی ہیں اور بے شمار خواتین کی زندگیوں میں ایمان افروز تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔
ان مراکز سے وابستہ خواتین کے تاثرات اس نظام کی کامیابی کا روشن ثبوت ہیں:
*ایک خاتون کہتی ہیں* :
"میں نے اپنے والد سے تعلق ختم کر لیا تھا، لیکن مرکزِ نسواں میں والدین کے حقوق معلوم ہوئے تو خود والد محترم سے معافی مانگی اور دوبارہ ان کی خدمت کا عزم کیا۔”
*ایک دوسری خاتون کہتی ہیں:*
"کاش! یہ ماحول برسوں پہلے میسر آ جاتا تو آج میں تجوید کے ساتھ قرآنِ کریم پڑھ سکتی۔”
*ایک خاتون نے جذباتی انداز میں کہا:*
"میں پوری کوشش کر رہی ہوں کہ کم از کم کلمہ صحیح طریقے سے یاد کر لوں تاکہ زندگی کے آخری لمحے میں میری زبان پر ایمان کے کلمات ہوں۔”
*ایک اور خاتون کا کہنا تھا* :
"مرکزِ نسواں میں آنے کے بعد سنت پر عمل کرنا گویا میری عادت سی ہوگئی ہے۔”
*ایک طالبہ نے بتایا* :
"ہم ساس اور بہو دونوں ساتھ مرکز آتے ہیں، پہلے ہمارے درمیان اختلافات تھے، مگر اب ہمارا تعلق ماں اور بیٹی جیسا ہو گیا ہے۔”
یہ صرف چند مثالیں ہیں، ورنہ ہزاروں خواتین نے اعتراف کیا ہے کہ مراکزِ نسواں نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا، انہیں بے دینی سے دینداری، غفلت سے بیداری اور تاریکی سے روشنی کی طرف لے آیا۔
آج جب محلے اور بستیاں فکری، اخلاقی اور دینی اعتبار سے شدید آزمائشوں سے دوچار ہیں تو ہر محلے میں ایک مرکزِ نسواں کا قیام وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔
ان مراکز کا نظام نہایت آسان اور قابلِ عمل ہے۔ محلے میں کسی مناسب مقام کو تعلیم گاہ بنایا جائے، ایک عالمہ یا فاضلہ کا تقرر کیا جائے، اور خواتین کی سہولت کے مطابق روزانہ دو گھنٹے مقرر کیے جائیں۔ ایک گھنٹہ قرآنِ کریم کی تعلیم اور تجوید کے لیے، جبکہ دوسرا گھنٹہ حضرت مولانا غیاث احمد صاحب رشادی مدظلہ کی مرتب کردہ دینی تربیتی کتب کے نصاب کے لیے مخصوص ہو، جسے ہر چھ ماہ بعد تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ مسلسل علمی و فکری ترقی ہوتی رہے۔
Advertising

مولانا سید رضوان اسعدی نے اہلِ علم، ائمہ، علماء، عالمات، فاضلات اور اہلِ خیر سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مراکزِ نسواں کے قیام کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھیں۔ عالمات اپنے علم کی زکوٰۃ ادا کرتے ہوئے خواتین کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھائیں، اور صاحبِ استطاعت حضرات اپنے مال کے ذریعے ان درسگاہوں کے قیام اور استحکام میں بھرپور تعاون کریں۔
اگر آج ہم اپنے محلوں میں دیندار، باحیا اور باشعور مائیں تیار کر دیں گے تو کل یہی مائیں ایمان پر جان نچھاور کرنے والی، باکردار اور صالح نسل کی معمار بنیں گی۔ حقیقت یہی ہے کہ ماں کی گود ہی اولاد کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔
اسی حقیقت کو ایک مفکر نے یوں بیان کیا ہے:
"تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں اچھی نسل دوں گا۔”
آئیے! ہم سب مل کر اس انقلابی دینی خدمت میں اپنا حصہ ادا کریں اور اس عزم کے ساتھ آگے بڑھیں:
"چلو! کچھ تدبیر کریں، کچھ کام کریں۔”
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ امت کی بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کو علمِ دین، عملِ صالح اور حسنِ اخلاق کی دولت سے مالا مال فرمائے، اور ہر محلہ و بستی کو مراکزِ نسواں کی برکتوں سے منور فرمائے۔ آمین۔
**مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے رابطہ کریں* :
9494157626

