صحافیوں کے تحفظ پر ضلع ایس پی اکھل مہاجن سے خضر احمد یافعی کی ملاقات، ہر ممکن تعاون کا یقین
عادل آباد۔20/جولائی(تلنگانہ وائس) صحافی خضر احمد یافعی نے عادل آبادضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اکھل مہاجن، آئی پی ایس سے ملاقات کرکے صحافیوں کو درپیش مسائل، ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں حائل رکاوٹوں اور تحفظ کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
ملاقات کے دوران صحافی خضر احمد یافعی نے ایس پی کو بتایا کہ بعض سیاسی قائدین، شرپسند عناصر، لینڈ مافیا، بااثر افراد اور چند جرائم پیشہ عناصر صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے سے روکنے کے لیے مختلف حربے اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی مواقع پر خبروں کی اشاعت یا پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹس اور پریس کانفرنسوں کی خبروں کو اپنے نیوز چینل یا اخبار میں شائع کرنے کے بعد بعض ملزمین نے ذاتی دشمنی پال لی اور بالواسطہ نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بعض افراد نے فون کالز کے ذریعے ہراساں کیا، جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دیں، جبکہ بعض علاقوں میں عوامی مسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی کو اجاگر کرنے والی خبروں کے بعد بھی چند بااثر افراد اور عوامی نمائندوں نے صحافیوں کے خلاف مخاصمانہ رویہ اختیار کیا۔ اس موقع پر خضر احمد یافعی نے نہ صرف اپنی بلکہ ضلع کے تمام اردو صحافیوں کی سلامتی اور تحفظ کا معاملہ بھی ایس پی کے سامنے رکھا۔
Advertising

ضلع ایس پی اکھل مہاجن، آئی پی ایس نے تمام نکات کو اطمینان اور سنجیدگی سے سنا اور مشورہ دیا کہ دھمکیاں دینے یا ہراساں کرنے والے افراد کے نام، تفصیلات اور دستیاب شواہد پولیس کو فراہم کیے جائیں تاکہ فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
Advertising

ایس پی اکھل مہاجن نے کہا کہ صحافیوں کو ڈرانا، دھمکانا یا ان کے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ پیدا کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے میں اہم ذمہ داری نبھاتے ہیں اور قانون انہیں اپنے فرائض آزادانہ طور پر انجام دینے کا حق دیتا ہے۔
Advertising

انہوں نے واضح انتباہ دیا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے یا دھمکانے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی بااثر شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
ایس پی نے یقین دلایا کہ اگر کسی بھی صحافی کو کسی بھی قسم کی دھمکی، دباؤ یا ہراسانی کا سامنا ہو تو وہ بلا جھجھک پولیس سے رابطہ کرے۔ پولیس ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

