عادل آباد میونسپل کونسل کے اجلاس میں اہم ترقیاتی منصوبوں سمیت تمام پانچ ایجنڈوں کی منظوری، بی جے پی ارکان کا واک آؤٹ

عادل آباد میونسپل کونسل کے اجلاس میں اہم ترقیاتی منصوبوں سمیت تمام پانچ ایجنڈوں کی منظوری، بی جے پی ارکان کا واک آؤٹ

عادل آباد، 22/جولائی(تلنگانہ وائس ڈیسک)عادل آباد میونسپل کونسل کا ہنگامی جنرل باڈی اجلاس چہارشنبہ کے روز میونسپل چیئرپرسن محترمہ بنڈاری انوشا ستیش کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پانچ اہم ایجنڈوں پر غور کیا گیا، جن میں دو ایجنڈوں کو باضابطہ منظوری دی گئی جبکہ تین امور کو اطلاع (Intimation) کے طور پر کونسل کے سامنے پیش کیا گیا۔ بعد ازاں اکثریتی ارکان کی تائید سے تمام ایجنڈوں کو منظور کر لیا گیا۔

اجلاس میں سب سے اہم ایجنڈے کے تحت اربن چیلنج فنڈ (UCF) کے ذریعے تقریباً 68 کروڑ روپے کی لاگت سے خانہ پور تالاب (منی ٹینک بنڈ) کی ترقی اور شہری بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے منصوبے کو اولین ترجیح دی گئی۔ منصوبے کے لئے 25 فیصد رقم مرکزی حکومت، 25 فیصد ریاستی حکومت جبکہ باقی 50 فیصد رقم قرض یا نجی سرمایہ کاری کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔

دوسرے ایجنڈے میں شہر میں عوامی تحفظ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضلع ایس پی اکھل مہاجن کی سفارش پر 25 لاکھ روپے کی لاگت سے نئے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کی منظوری دی گئی۔

Advertising

کونسل کو ضلع کلکٹر کی منظوری سے پہلے ہی منظور شدہ آٹھ ترقیاتی امور سے بھی آگاہ کیا گیا، جبکہ مختلف تلگو اور انگریزی اخبارات میں شائع کیے گئے ٹینڈر نوٹس سے متعلق بلوں کی ادائیگی کا معاملہ بھی اطلاع کے طور پر پیش کیا گیا۔

Advertising

اجلاس میں میونسپلٹی کی جانب سے دیے گئے ترقیاتی کام مکمل نہ کرنے والے چار کنٹریکٹرس کو دو سال کے لیے بلیک لسٹ (ڈی بار) کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس مدت کے دوران وہ میونسپل حدود میں کسی بھی ٹینڈر یا ترقیاتی کام میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ ان کے نام پر جاری ٹینڈرس منسوخ کرتے ہوئے متعلقہ ای ایم ڈی ضبط کرنے اور نئے ای ٹینڈرس جاری کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

Advertising

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میونسپل چیئرپرسن بنڈاری انوشا ستیش نے کہا کہ خانہ پور تالاب کی ترقی کے لیے یو سی ایف کے تحت تقریباً 68 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ شہر کی سلامتی کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب سمیت تمام اہم ایجنڈوں کو منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی کام ادھورے چھوڑنے والے چار کنٹریکٹرس کو دو سال کے لیے بلیک لسٹ بھی کیا گیا ہے۔

اجلاس کے دوران بعض ارکان نے چند نکات پر اعتراضات بھی اٹھائے، تاہم اکثریتی ارکان کی حمایت سے تمام فیصلوں کی منظوری دے دی گئی۔

دوسری جانب، ایجنڈے کی کاپیاں بروقت فراہم نہ کیے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے بی جے پی کے تمام کونسلرس اور دو آزاد ارکان اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔ بی جے پی کونسلر جیون اور سریکانت نے الزام عائد کیا کہ ایجنڈا کی نقول تاخیر سے دی گئیں، اجلاس میں کوئی ہنگامی نوعیت کا موضوع نہیں تھا، اپوزیشن ارکان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، چیئرپرسن امتیازی رویہ اختیار کر رہی ہیں اور کوآپشن ممبران کے انتخابات بھی منعقد نہیں کیے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی کی جارہی ہے۔

اجلاس میں میونسپل کمشنر، ٹاؤن پلاننگ و ریونیو حکام، میونسپل وائس چیئرمین محمد روہت، مختلف سیاسی جماعتوں کے فلور لیڈرس اور بی جے پی، کانگریس، بی آر ایس، ایم آئی ایم اور آزاد ارکان نے شرکت کی۔