نوجوان طبقہ میں شراب نوشی کا بڑھتا رجحان، لمحہء فکریہ
علاقائی اہلِ علم وذمہ داران کی مشترکہ جدوجہد وقت کی ضرورت
مولانا سیدرضوان اسعدی صدر منبر ومحراب فاوءنڈیشن تلنگانہ کی اپیل
عادل آباد۔ 11/جون (تلنگانہ وائس)
مولانا سیدرضوان اسعدی صدر منبرومحراب فاوءنڈیشن تلنگانہ نے اپنا فکرانگیز صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے شراب کو ناپاک چیز اور گندگی قراردیا ہے نیز حضور ﷺ نے اس کو گناہوں کی جڑ کہا ہے، یہ حقیقت ہیکہ انسان شراب نوشی کے بعد اپنے آپ میں نہیں ہوتا، وہ شراب نوشی کے بعد نہ والدین کا احترام برقرار رکھتا ہے نہ ہی دوسروں کے ساتھ عمدہ برتاوء، اس حالت میں وہ گالی گلوچ چوراستوں میں چیخ وپکار اور بیوی کے ساتھ حد درجہ ناروا سلوک کرتا ہے، شریعت کا مسئلہ ہیکہ حالتِ نشہ کی طلاق بھی طلاق ہے، کتنے ایسے ہیں جنہوں نے حالتِ نشہ میں اپنی بیویوں کو طلاق دے رکھی ہے باوجود اس کے حرام تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں، شراب نوشی کی وجہ سے انسان معاشرہ میں بے عزت ہوجاتا ہے ، اہلِ خاندان اور ماتحتوں کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

معاشرہ میں شراب نوشی کا معاملہ اس قدر زور پکڑتا جارہا ہیکہ نابالغ بچے تک اس لت میں ملوث ہورہے ہیں، ابھی ابھی سن بلوغت کو پہونچے نوجوان بکثرت اس کے عادی ہورہے ہیں،

منبر ومحراب فاوءنڈیشن تلے مختلف علاقوں کے مختلف احباب سے ملاقاتوں میں یہ اطلاعات بکثرت مل رہی ہیں کہ ان علاقوں میں نوجوان بڑی تعداد میں شراب نوشی کررہے ہیں ، اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو اندیشہ ہیکہ نوجوان نہ صرف اپنا مستقبل برباد کرلیں گے بلکہ ان کے ذریعے ازدواجی زندگیاں بھی متاثر ہوں گی، بلکہ ہورہی ہیں، کڈنیوں کا ناکارہ ہوجانا، طلاق کا عام ہوجانا اور جوانی کے عمر کے جنازے انتہائی تکلیف دے رہے ہیں ،
امت میں معاشرہ کی اصلاح کے لئے بہترین کردار علماء ہی کا ہوتا ہے، منجانب اللہ افہام وتفہیم کی بھرپور صلاحیت ودیعت ہوتی ہے،
ہرعلاقہ کے ائمہ کرام، علماء کرام اور خطباء عظام سے درد مندانہ گزارش ہیکہ اپنے اپنے علاقہ کا ضرور جائزہ لیں، جمعہ کے خطبات کے علاوہ اس بیماری میں ملوث افراد سے انفرادی ملاقات کرکے دینی ذہن سازی کریں، الغرض دنیوی زندگی کے تحفظ اور اخروی نجات کا احساس دلاتے ہوئے انفرادی واجتماعی شعوربیداری کی خدمت انجام دیں، یہ نہ صرف عظیم خدمت ہے بلکہ ملت کے نوجوانوں پر عظیم احسان ہوگا، نیز ان علماء کا علاقہ کے ذمہ داران ، مساجد کے ذمہ داران ، دانشوران اور شریف نوجوان ضرور ساتھ دیں، ایک زندگی کا تحفظ ایک خاندان کا تحفظ ہوگا، امیدکہ قابلِ قدر علماء اور معزز احباب فکر فرماکر اقدام فرمائیں گے،

