تلنگانہ میں رشوت خور افسران کے خلاف اے سی بی کا بڑا کریک ڈاؤن
تازہ ترین کارروائی میں چیریالہ کے تحصیلدار 70 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار، چند ہی دنوں میں تحصیلدار، ڈی ایس پی، انجینئر، پنچایت سیکریٹری، سب انسپکٹر اور ایکسائز افسران سمیت کئی بڑے عہدیدار اے سی بی کے شکنجے میں
تلنگانہ وائس اسپیشل رپورٹ 7/جولائی 2026
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں محکمہ انسدادِ رشوت ستانی (اے سی بی) کی مسلسل کارروائیوں نے مختلف سرکاری محکموں میں پھیلی بدعنوانی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ تازہ ترین کارروائی میں چیریالہ منڈل، ضلع سدی پیٹ کے تحصیلدار کورّا دلیپ نائک کو 70 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔
اے سی بی کے مطابق تحصیلدار نے ناگاپوری گاؤں میں 11 NALA کنورژن درخواستوں کی کارروائی مکمل کرنے کے عوض شکایت کنندہ سے 70 ہزار روپے رشوت طلب کی تھی۔ شکایت کے بعد اے سی بی نے منصوبہ بندی کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو دفتر ہی میں رشوت وصول کرتے ہوئے گرفتار کر لیا اور رقم برآمد کر لی۔
اس ایک کارروائی نے پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر عوام کی خدمت کے لیے مقرر کیے گئے سرکاری افسران، بھاری تنخواہوں اور متعدد سرکاری سہولیات کے باوجود رشوت لینے سے کیوں باز نہیں آ رہے؟ عام شہریوں کے جائز کام بھی اب رشوت کے بغیر نہیں ہو پا رہے، جس پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اے سی بی نے مختلف محکموں کے کئی اعلیٰ اور نچلے درجے کے افسران کے خلاف بڑی کارروائیاں کی ہیں۔

2 جولائی کو پولیس کمپیوٹر سروسز (PCS)، حیدرآباد میں تعینات ڈی ایس پی سنکریڈی بھیم ریڈی کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثوں کا مقدمہ درج کیا گیا۔ تلاشی کے دوران حیدرآباد، تلنگانہ اور کرناٹک میں متعدد ولاز، مکانات، فلیٹس، تجارتی عمارتوں میں حصص، درجنوں ایکڑ زرعی اراضی، کروڑوں کی جائیدادیں، تقریباً 43.60 لاکھ روپے نقد، دو کلو سونا، 20 کلو چاندی اور تقریباً 20 لاکھ روپے بینک بیلنس کا انکشاف ہوا۔
29 جون کو آبپاشی محکمہ (Irrigation Sub-Division-I)، اشواراؤپیٹہ، بھدرادری کوتہ گوڑم کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر لچّوبکتا سرینواس راؤ کو 2 لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ الزام ہے کہ انہوں نے زرعی زمین کی بھرائی کے لیے ٹینک سے مٹی نکالنے اور منتقل کرنے کی اجازت دینے کے بدلے رشوت طلب کی تھی۔

27 جون کو بھاناپورم گرام پنچایت، مدیگونڈہ منڈل، کھمم کے پنچایت سیکریٹری تھمّی سیٹی سریش کو 25 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ وہ مکان کی تعمیر کی اجازت اور ہاؤس نمبر جاری کرنے کے عوض رشوت وصول کر رہے تھے۔
25 جون: کریم نگر اربن کے پروبیشن اینڈ ایکسائز انسپکٹر گنڈیٹی رامو کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثوں کا مقدمہ درج کیا گیا۔ اے سی بی کو تلاشی کے دوران 20.67 لاکھ روپے نقد، تقریباً 30 لاکھ روپے بینک بیلنس، دیگر قیمتی اشیاء اور جائیدادیں برآمد ہوئیں، جن کی دستاویزی مالیت تقریباً 87 لاکھ روپے بتائی گئی جبکہ اصل مارکیٹ ویلیو اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
25 جون: شامیرپیٹ منڈل، میڑچل ملکاجگیری کی معطل تحصیلدار و جوائنٹ سب رجسٹرار تمّاکومّا سُچاریتا کے خلاف بھی آمدنی سے زائد اثاثوں کا مقدمہ درج کیا گیا۔ تلاشی میں 5.05 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثے، متعدد فلیٹس، پلاٹس، زرعی زمین، 12 لاکھ روپے نقد، دو گاڑیاں، تقریباً 1.20 کروڑ روپے کے سونے اور ہیروں کے زیورات اور 38 لاکھ روپے بینک بیلنس کا انکشاف ہوا۔ یہ افسر پہلے ہی ایک دوسرے مقدمے میں 30 لاکھ روپے رشوت طلب کرنے اور 2 لاکھ روپے وصول کرنے کے الزام میں گرفتار ہو چکی ہیں۔
23 جون: گاندھی نگر پولیس اسٹیشن، حیدرآباد کے سب انسپکٹر وی۔ نرسمہلو کو ایک لاکھ روپے رشوت طلب کرنے اور 50 ہزار روپے بطور پہلی قسط وصول کرنے کے دوران اے سی بی نے گرفتار کیا۔ الزام تھا کہ وہ شکایت کنندہ کو اسٹیشن بیل دینے اور آئندہ ہراساں نہ کرنے کے بدلے رشوت لے رہے تھے۔
23 جون: نظام آباد کے ڈسٹرکٹ پروہبیشن اینڈ ایکسائز آفیسر (ایکسائز سپرنٹنڈنٹ) کوموری ملا ریڈی کے خلاف بھی آمدنی سے زائد اثاثوں کا مقدمہ درج کیا گیا۔ اے سی بی نے تلاشی کے دوران متعدد مکانات، تجارتی عمارت، پلاٹس، 10.23 ایکڑ زرعی اراضی، تقریباً 50 لاکھ روپے بینک بیلنس، نقد رقم، گاڑی اور دیگر اثاثے برآمد کیے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 3 کروڑ روپے بتائی گئی۔
تلنگانہ میں یکے بعد دیگرے سامنے آنے والے یہ مقدمات ظاہر کرتے ہیں کہ بدعنوانی کے خلاف اے سی بی کی کارروائیاں تیز ہو چکی ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں تو سرکاری دفاتر میں رشوت ستانی پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب یہ سوال بھی شدت سے اٹھ رہا ہے کہ بھاری تنخواہوں، مراعات اور سرکاری اختیارات کے باوجود بعض افسران ناجائز دولت جمع کرنے اور رشوت لینے کا راستہ کیوں اختیار کر رہے ہیں؟
اے سی بی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی سرکاری ملازم رشوت طلب کرے تو فوراً ٹول فری نمبر 1064 پر اطلاع دیں تاکہ قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جا سکے۔

