ائمہ و مؤذنین مساجد کے خاموش خدام ۔ ان کی ضروریات کا خیال رکھیں

ائمہ و مؤذنین: مساجد کے خاموش خدام، ہماری اجتماعی ذمہ داری

عادل آباد۔16/جولائی(تلنگانہ وائس ڈیسک)

مساجد اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر ہیں۔ یہ صرف نماز ادا کرنے کی جگہ نہیں بلکہ ایمان، عبادت، تعلیم، اصلاح، تربیت اور معاشرتی رہنمائی کے مراکز بھی ہیں۔ ان مقدس مراکز کی خدمت انجام دینے والے ائمہ کرام اور مؤذنین حضرات ہماری دینی زندگی کا ایک نہایت اہم حصہ ہیں۔ ان کی خدمات کو محض ایک ملازمت یا معمول کی ذمہ داری سمجھنا انصاف نہیں، بلکہ یہ ایک دینی خدمت اور بڑی ذمہ داری ہے۔

خصوصاً وہ ائمہ و مؤذنین حضرات جو برسوں سے ایک ہی مسجد میں مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں، گرمی ہو یا سردی، بارش ہو یا سخت موسم، دن ہو یا رات، وہ نمازوں کی پابندی، اذان، امامت، قرآن کریم کی تعلیم، دینی رہنمائی اور دیگر مذہبی ذمہ داریوں میں مصروف رہتے ہیں۔ اکثر اوقات وہ اپنی ذاتی مصروفیات، آرام اور ضروریات کو بھی مسجد کی ذمہ داریوں پر ترجیح نہیں دیتے۔

ائمہ و مؤذنین کا خیال رکھنا مسجد انتظامیہ اور مصلیان کی ذمہ داری ہے

مسجد انتظامیہ اور اہلِ محلہ کو چاہیے کہ وہ ائمہ و مؤذنین حضرات کی ضروریات کو محض ان کا ذاتی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ ان کی مناسب اور باعزت کفالت دراصل ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔

Advertising

ان کے ماہانہ مشاہرے یا تنخواہ کا تعین اس انداز میں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کی بنیادی ضروریات عزت کے ساتھ پوری کرسکیں۔ بچوں کی تعلیم، علاج و معالجہ، ہسپتال کے اخراجات، رہائش، روزمرہ ضروریات اور دیگر جائز ضروریات زندگی کے لیے انہیں دوسروں کا محتاج نہ ہونا پڑے۔

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب ایک امام یا مؤذن اپنی بنیادی ضروریات کے لیے مسلسل پریشان رہے گا تو اس کے لیے ذہنی یکسوئی کے ساتھ دینی خدمات انجام دینا مشکل ہوسکتا ہے۔ اس لیے ائمہ و مؤذنین کو مناسب، باعزت اور بروقت مشاہرہ دینا نہ صرف اخلاقی تقاضا ہے بلکہ دینی خدمت کی قدر دانی بھی ہے۔

ائمہ و مؤذنین بھی اپنی ذمہ داریوں کو پوری دیانت داری سے نبھائیں

جس طرح مسجد انتظامیہ اور مصلیان پر ائمہ و مؤذنین کے حقوق کی ادائیگی لازم ہے، اسی طرح ائمہ و مؤذنین حضرات پر بھی اپنی ذمہ داریوں کو پوری ایمانداری، دیانت داری، پابندیٔ وقت اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔

امامت ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ امام صرف نماز پڑھانے والا شخص نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے دینی رہنما اور اخلاقی نمونہ بھی ہوتا ہے۔ مؤذن کی اذان بھی مسلمانوں کو نماز کی طرف بلانے والی ایک عظیم خدمت ہے۔ لہٰذا ائمہ و مؤذنین کو چاہیے کہ وہ نمازوں کی پابندی، حسنِ اخلاق، پاکیزگی، امانت داری، نرم مزاجی اور دینی ذمہ داریوں کا خاص خیال رکھیں۔

Advertising

مسجد کی خدمت کو محض روزگار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی خدمت کا ذریعہ سمجھ کر انجام دینا چاہیے۔

غلطی پر اصلاح، نہ کہ تذلیل

انسان خطا کا پتلا ہے۔ ائمہ و مؤذنین بھی انسان ہیں اور ان سے بھی کبھی معمولی یا قابلِ نظرانداز غلطی ہوسکتی ہے۔ ایسی غلطیوں پر درگزر، برداشت اور اصلاح کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔

اگر کوئی بات واقعی قابلِ اصلاح ہو تو اسے مجمع عام میں تنقید کا موضوع بنانے، بدنام کرنے یا عزت مجروح کرنے کے بجائے انفرادی طور پر نہایت ادب، احترام اور نرم لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی جائے۔

کسی کی اصلاح کا مقصد اسے نیچا دکھانا نہیں بلکہ بہتری کی طرف لے جانا ہونا چاہیے۔

غیر ضروری بدگمانی، عیب تلاش کرنا، غیبت، الزام تراشی، افواہیں پھیلانا اور کسی کی عزت کو نقصان پہنچانا اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔ مسجد جیسے مقدس مقام سے وابستہ افراد کے بارے میں تو مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔ اختلاف یا شکایت ہو تو اسے مناسب طریقے سے مسجد انتظامیہ کے سامنے رکھا جائے اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے۔

مسجد انتظامیہ کا اختیار بھی ذمہ داری کے ساتھ ہے

مسجد انتظامیہ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ انتظامی ذمہ داری اختیار سے زیادہ امانت ہے۔ انتظامیہ کا کام صرف چندہ جمع کرنا، تعمیرات کرانا یا حساب کتاب رکھنا نہیں بلکہ مسجد کے تمام امور کو عدل، شفافیت اور مشاورت کے ساتھ چلانا بھی ہے۔

ائمہ و مؤذنین کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا، ان کی جائز ضروریات کا خیال رکھنا، ان کے مشاہرے میں غیر ضروری تاخیر نہ کرنا، ان کی عزت نفس کو مجروح نہ کرنا اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنا انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے۔

اسی طرح کسی بھی امام یا مؤذن کے ساتھ ذاتی پسند و ناپسند، گروہی اختلاف یا ذاتی رنجش کی بنیاد پر ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ فیصلے ہمیشہ شریعت، اصول، انصاف اور مسجد کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔

ائمہ و مؤذنین بھی انتظامیہ اور مصلیان کا احترام کریں

جس طرح انتظامیہ اور مصلیان کو ائمہ و مؤذنین کا احترام کرنا چاہیے، اسی طرح ائمہ و مؤذنین حضرات کو بھی مسجد انتظامیہ، مصلیان اور اہلِ محلہ کے ساتھ حسنِ اخلاق، صبر، برداشت اور احترام کا معاملہ کرنا چاہیے۔

اختلاف رائے پیدا ہونا فطری بات ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی، گروہ بندی یا دل آزاری کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ باہمی گفتگو، مشاورت اور حکمت کے ذریعے مسائل حل کیے جانے چاہئیں۔

قرآن و سنت میں دینی خدمات کی عظمت

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مساجد کو اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا:

وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ

’’اور بے شک مساجد اللہ ہی کے لیے ہیں۔‘‘

(سورۃ الجن: 18)

مساجد اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں اور ان کی آبادکاری، حفاظت اور خدمت بڑی سعادت ہے۔ جو لوگ مساجد میں نماز، اذان، تعلیمِ قرآن اور دینی رہنمائی کی خدمت انجام دیتے ہیں، ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔

امام کی فضیلت سے متعلق کئی احادیث موجود ہیں۔

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ…

ترجمہ:

’’لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو ان میں اللہ کی کتاب (قرآن) سب سے زیادہ پڑھنے والا ہو، اگر قراءت میں سب برابر ہوں تو جو سنت کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو۔‘‘

(صحیح مسلم، حدیث: 673)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امامت ایک معمولی ذمہ داری نہیں بلکہ علمِ قرآن و سنت اور دینی اہلیت سے متعلق ایک عظیم منصب ہے۔

ایک اور حدیث:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ

’’امام اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔‘‘

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

یہ حدیث امام کے مقام اور ذمہ داری دونوں کو واضح کرتی ہے۔ امام کی اقتدا کی جاتی ہے، اس لیے اس کا احترام بھی ضروری ہے اور امام پر اپنی ذمہ داری کو اخلاص، علم، تقویٰ اور دیانت کے ساتھ ادا کرنا بھی لازم ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے مؤذن کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور اذان دینے والوں کے بلند مقام کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ اسی طرح نماز کی امامت ایک عظیم دینی ذمہ داری ہے، جس کے لیے علم، تقویٰ، امانت اور ذمہ داری کا احساس ضروری ہے۔

لہٰذا ائمہ و مؤذنین کی خدمات کو عزت دینا دراصل دینی خدمات کی قدر دانی ہے۔

مناسب مشاہرہ: عزتِ نفس اور یکسوئی کا تقاضا

یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ ائمہ و مؤذنین کو مناسب ماہانہ تنخواہ یا مشاہرہ دینا کسی پر احسان نہیں، بلکہ ان کی خدمات کا باعزت حق ہے۔

اگر ایک امام یا مؤذن اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بار بار لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو، تو یہ نہ مسجد کے لیے مناسب ہے اور نہ ہی معاشرے کے لیے قابلِ فخر بات۔

مسجد انتظامیہ اور اہلِ خیر کو چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق ایسا مناسب مشاہرہ مقرر کریں جس سے امام اور مؤذن اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات، بچوں کی تعلیم، علاج و معالجہ اور دیگر جائز اخراجات عزت کے ساتھ پورے کرسکیں۔

جو شخص پوری ذمہ داری کے ساتھ مسجد کی خدمت انجام دے رہا ہے، اسے مالی پریشانیوں میں مبتلا رکھ کر اس سے مکمل یکسوئی اور مثالی خدمت کی توقع کرنا انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔

باہمی احترام ہی بہترین نظام کی بنیاد ہے

مسجد انتظامیہ، ائمہ، مؤذنین اور مصلیان—یہ سب ایک دوسرے کے معاون ہیں، مخالف نہیں۔ مسجد کسی فرد، خاندان یا گروہ کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے۔

اس لیے مسجد کے تمام معاملات میں:

– اخلاص ہو، ذاتی مفاد نہیں؛

– مشاورت ہو، من مانی نہیں؛

– اصلاح ہو، تذلیل نہیں؛

– احترام ہو، تحقیر نہیں؛

– انصاف ہو، جانبداری نہیں؛

– حسنِ ظن ہو، بدگمانی نہیں؛

– خدمت ہو، اقتدار کا احساس نہیں۔

ائمہ و مؤذنین بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کا کردار مسجد اور دین سے وابستہ ہے، جبکہ مسجد انتظامیہ اور مصلیان اس بات کا خیال رکھیں کہ دینی خدام کی عزتِ نفس اور جائز ضروریات کی حفاظت ان کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

اختتامیہ

مساجد اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں اور ائمہ و مؤذنین ان گھروں کے دینی خدام ہیں۔ ان کی خدمات کو نہ کم تر سمجھا جائے اور نہ ہی انہیں غیر ضروری تنقید، بدگمانی اور بے جا مداخلت کا نشانہ بنایا جائے۔

اسی طرح ائمہ و مؤذنین بھی اپنی ذمہ داریوں کو امانت سمجھتے ہوئے اخلاص، دیانت، پابندی اور حسنِ اخلاق کے ساتھ ادا کریں۔

اگر مسجد انتظامیہ، مصلیان، ائمہ اور مؤذنین اپنے اپنے حقوق و فرائض کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام کریں، باہمی مشاورت سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائیں تو مساجد نہ صرف نمازوں سے آباد ہوں گی بلکہ وہ حقیقی معنوں میں ایمان، اخلاق، اتحاد، تعلیم اور اصلاح کے مراکز بن سکتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں مساجد کی صحیح خدمت، ائمہ و مؤذنین کی قدر دانی، باہمی احترام، انصاف اور اپنی ذمہ داریوں کو اخلاص کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔