تلگو اخبار میں پلاٹوں سے متعلق الزامات شائع، بی جے پی رکنِ اسمبلی پائل شنکر کے خاندان کا سخت ردِعمل
تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ایس پی سے شکایت، سوشل میڈیا اور مبینہ فیک خبروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
عادل آباد، 8/ جولائی(تلنگانہ وائس) ضلع عادل آباد میں سرکاری اسائنڈ (Assigned) اراضی سے متعلق ایک تنازع اس وقت مزید موضوعِ بحث بن گیا جب ایک تلگو روزنامہ میں بی جے پی کے مقامی رکنِ اسمبلی پائل شنکر کی اہلیہ اوما پائل کے نام متعدد پلاٹوں کی رجسٹری سے متعلق الزامات شائع ہوئے۔ دوسری جانب رکنِ اسمبلی کے خاندان نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، جھوٹا اور ہتک آمیز قرار دیا ہے اور ضلع پولیس سے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تلگو روزنامہ میں شائع رپورٹ کے مطابق ضلع کے وارسولا لے آؤٹ میں واقع تقریباً دس ایکڑ اسائنڈ اراضی، جو ماضی میں ایک کسان کو زرعی مقاصد کے لیے الاٹ کی گئی تھی، اس سے متعلق مختلف بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ اراضی میں رکنِ اسمبلی کی اہلیہ کے نام پر دس سے زائد پلاٹ رجسٹر کیے گئے، جن کی مالیت تقریباً پانچ کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔تلگو اخبار میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اس اراضی کی خرید و فروخت، سروے نمبروں میں تبدیلی، این او سی کے اجرا اور بعد ازاں اس کی منسوخی سمیت مختلف ریونیو کارروائیوں پر پہلے بھی اعتراضات سامنے آ چکے ہیں اور اس سلسلے میں ضلع کلکٹر کو شکایات بھی دی گئی تھیں۔

رپورٹ میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ دھرانی اور بھو بھارتی پورٹل پر بعض پابندیوں کے باوجود پرانے سروے نمبروں کی بنیاد پر رجسٹریاں جاری رہیں۔ تاہم یہ تمام دعوے متعلقہ تلگو اخبار کی رپورٹ پر مبنی ہیں اور ان کی کسی سرکاری تحقیقاتی ادارے یا عدالت کی جانب سے تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

دریں اثناء رکنِ اسمبلی پائل شنکر کے فرزند پائل شرت کمار نے منگل کے روز ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ اکھل مہاجن، آئی پی ایس سے ملاقات کرتے ہوئے ایک تحریری شکایت پیش کی۔ شکایت میں کہا گیا کہ ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، فیس بک، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے خاندان کی زمینوں اور جائیدادوں سے متعلق جھوٹے، بے بنیاد اور ہتک آمیز الزامات پھیلائے جا رہے ہیں، جن سے خاندان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ

Advertisment

شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے کسی سرکاری تحقیقات یا عدالتی فیصلے کے بغیر من گھڑت اور گمراہ کن مواد شائع کیا، جس سے خاندان کی عزت و وقار متاثر ہوا۔ پائل شرت کمار نے سائبر کرائم ونگ کے ذریعے معاملے کی مکمل تحقیقات کرانے، ذمہ دار افراد کی شناخت کرنے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس معاملے میں فی الحال ایک جانب تلگو روزنامہ میں شائع الزامات موجود ہیں، جبکہ دوسری جانب رکنِ اسمبلی کے خاندان نے ان تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس معاملے میں ابھی تک کسی مجاز سرکاری ادارے کی جانب سے الزامات کی تصدیق یا تردید پر مبنی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے، لہٰذا معاملہ زیرِ بحث اور غیر حتمی نوعیت کا ہے۔ ایسے میں صحافتی اصولوں کے مطابق دونوں فریقوں کا مؤقف پیش کرنا ضروری ہے، جبکہ حتمی حقائق متعلقہ حکام کی تحقیقات یا عدالتی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔۔۔ پولیس اور متعلقہ محکموں کی تحقیقات کے بعد ہی حقائق سامنے آسکتے ہیں۔

